پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان ہونیوالے دفاعی معاہدے کا ہدف ایران نہیں ہے،ترک وزیر خارجہ

استنبول(جانوڈاٹ پی کے)ترکیےکے وزیرخارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا ہدف ایران نہیں ہے۔

ترکیے کے وزیرخارجہ نے کہا کہ مشترکا دفاعی معاہدے کے ذریعے کسی ملک کو بھی ہدف نہیں بنایا گیا جب تک وہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملہ نہ کرے۔

ترکیےکے وزیر خارجہ کے مطابق ترکیے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

حاکان فیدان نے بتایاکہ اس دفاعی معاہدے کے تحت وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا جو نیٹو کے نظام سے مماثلت رکھتا ہوگا۔

ترکیےکے وزیر خارجہ نے کہا بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سلامتی ترکیے کے مفادات سے متعلق ہے، اس لیے ترکیے کو سعودی عرب کی جانب سے قائم کی جانے والی بین الاقوامی اتحادی کوششوں میں شامل ہونا چاہیے۔

ترکیےکے وزیرخارجہ نے دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت کا امکان ظاہر کردیا، انہوں نے کہا کہ کچھ تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد ممکن ہے کہ مصر دفاعی معاہدے میں شامل ہوجائے۔

مزید خبریں

Back to top button