رتن جو تڑ میں پلاٹ کی ملکیت پر راہموں اور سمیجا برادری کا پرانا تنازع شدت اختیار کر گیا، سیکڑوں افراد چھاچھرو پہنچ گئے، دھرنا، سڑک بلاک

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر ضلع کے گاؤں رتن جو تڑ میں راہموں اور سمیجا برادری کے درمیان پلاٹ کی ملکیت پر جاری پرانا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد صورتحال احتجاج اور دھرنے تک پہنچ گئی۔ گزشتہ روز گاؤں رتن جو تڑ کی راہموں برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مبینہ طور پر پلاٹ کی ملکیت کے معاملے پر انصاف کے لیے چھاچھرو پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا تھا، جس کے بعد آج راہموں برادری کے سیکڑوں افراد احتجاجی دھرنا دینے کے لیے چھاچھرو پہنچ گئے۔ مظاہرین نے چھاچھرو بس ٹرمینل کے قریب دھرنا دے رکھا ہے، جہاں بڑی تعداد میں افراد موجود ہیں۔ دھرنے کے باعث چھاچھرو–عمرکوٹ مین روڈ گزشتہ تین گھنٹوں سے ٹریفک کے لیے بند ہے، جس کے نتیجے میں سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گاؤں رتن جو تڑ میں پلاٹ کی ملکیت کے حوالے سے جاری پرانے تنازع کو منصفانہ طریقے سے حل کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ انتظامیہ معاملے کا نوٹس لے، دونوں فریقین کا مؤقف سن کر قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ دھرنے کے باعث چھاچھرو شہر میں ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا ہے، جبکہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔احتجاج کرنے والوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے اور مسئلے کا مناسب حل نکلنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button