وفاق اورپنجاب میں نفاق،وزیر اعظم سے شکوہ نہیں،اصل لڑائی خاندانی،الٹی گنتی کیوجہ لیگی خود ہیں،بلاول بھٹو

اسلام آباد/پونچھ (جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اندرونی خلفشار کی نشاندہی کرتے ہوئےوزیر اعظم شہبازشریف کے اردگرد موجود مخصوص ٹولے کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ بحران کا واحد حل مذاکرات اور ایک آزادٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کا قیام ہے، جو تمام واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہ کرے، احتجاج اور ریاستی کارروائیاں دونوں روک دی جائیں تاکہ خطے میں امن بحال ہو اور عوام معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کئی کئی ہفتوں تک انٹرنیٹ بند رہا، سڑکیں بند رہیں، احتجاج جاری رہا مگر مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک طرف فوجی اور پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کشمیری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، اس لیے تصادم کے بجائے سیاسی مفاہمت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صاف، شفاف اور بیک وقت انتخابات ہی عوامی مینڈیٹ کا حقیقی اظہار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار چھ مراحل میں انتخابات کیوں کرائے گئے اور اگر مقصد شفافیت اور امن تھا تو پھر ہر مرحلے میں دھاندلی اور تنازعات کیوں سامنے آئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے سے طے شدہ نشستوں کے بعد مزید حلقوں میں بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میرپور اور مظفرآباد کے بعد اب ان کی نظریں پونچھ، باغ، حویلی اور پلندری پر ہیں، تاہم 10 اگست کو عوام انہیں جواب دیں گے۔
بلاول بھٹو نے وفاقی سیاست پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی "الٹی گنتی” شروع ہو چکی ہے، تاہم وہ وزیراعظم شہبازشریف کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی نیت اچھی ہے لیکن ان کی جماعت کے اندر موجود ایک مخصوص دھڑا نہ صرف اتحادیوں بلکہ خود وزیراعظم کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اتحادی ہے تو اس کی نشستیں چوری کیوں کی گئیں، کارکنوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا، مظفرآباد میں ان کے رکن اسمبلی پر فائرنگ کیوں ہوئی اور آزاد کشمیر کے صدر پر حملہ کیوں کیا گیا۔ ان کے بقول یہ اتحاد نہیں بلکہ محاذ آرائی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر کو حقیقی معنوں میں "جنت نظیر” بنانے کے لیے وہاں کے عوام کو حقِ حاکمیت، حقِ روزگار اور حقِ ملکیت دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے قربانیاں اور وفاداری تو مانگی جاتی ہے لیکن انہیں بنیادی آئینی و جمہوری حقوق دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ووٹ کی عزت نہیں ہوگی اور عوام کے فیصلے کا احترام نہیں کیا جائے گا، نظام مستحکم نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان میں آئین کو بار بار کمزور کیا گیا، پھر اسی نظام کو ناکام قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ نظام خود ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام بنایا گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بعض حلقے نظام کی خرابی کا حل نئے صوبوں میں تلاش کر رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ عوام کو بااختیار نہ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں نئے صوبوں یا انتظامی اصلاحات پر عوامی اتفاقِ رائے موجود ہوگا، پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی، تاہم کسی بھی فیصلے کو عوام پر مسلط نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر پہلے ہی سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے، اس لیے ایسے معاملات کو عوامی خواہشات کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران میں جاری کشیدگی، بھارت کی جانب سے ممکنہ خطرات، افغانستان سے دہشت گردی اور بلوچستان کی صورتحال کے پیش نظر یہ وقت سیاسی محاذ آرائی کا نہیں بلکہ قومی اتحاد کا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اپوزیشن، اتحادیوں اور عوام سے ٹکراؤ کے بجائے قومی مفاہمت کی پالیسی اختیار کی جائے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پیپلز پارٹی سے علیحدگی چاہتی ہے تو انہیں اپوزیشن میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب آج کے مخالفین انہی سے تعاون کی درخواست کریں گے اور وہ انہیں آزاد کشمیر کے انتخابات ضرور یاد دلائیں گے۔



