عالمی مارکیٹ میں بڑی ہلچل، خام تیل کی قیمت 78 ڈالر سے نیچے آگئی

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی توقعات نے عالمی تیل مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا کر دیا، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 13 جولائی کے بعد پہلی بار 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی اور تقریباً 78.30 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتی رہی۔
اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی کم ہو کر 74.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ "آج یا کل” طے پانے کا امکان ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آ جاتی ہے تو عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوں گے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات کے حتمی نتائج سامنے آنے تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بھی جاری سفارتی کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جس سے عالمی منڈی کے اعتماد کو مزید تقویت ملی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 23 جولائی کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی پیش رفت کی توقعات کے باعث قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں اور ایران کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔



