امریکی صدر کا ایران کو ’آخری موقع‘ کا اشارہ، تہران کا دفاع پر کسی سمجھوتے سے انکار

واشنگٹن (جانوڈاٹ پی کے\مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے لیے یہ ایک "آخری موقع” ہے۔ آبنائے ہرمز کل تک مکمل طور پر کھل جانی چاہیے۔جبکہ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھانے کا خواہاں نہیں، تاہم ملکی سلامتی، قومی مفادات اور سرزمین کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی درخواست پر بات چیت کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے کسی نہ کسی طریقے سے جلد براہِ راست یا بالواسطہ بات چیت ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کل تک مکمل طور پر کھل جانی چاہیے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی کمپنیاں غیر معمولی منافع کما رہی ہیں، جبکہ ان کے بقول آبنائے ہرمز کی بحالی ایک پیچیدہ معاملہ نہیں اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔

برطانیہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، تاہم وہ کسی دوسرے ملک کو یہ نہیں بتا سکتے کہ اسے اپنا ملک کیسے چلانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امیگریشن یورپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور اگر برطانیہ شمالی سمندر میں تیل کے ذخائر کو مکمل طور پر استعمال کرے تو اسے سستی توانائی حاصل ہو سکتی ہے، جو ان کے بقول سیکڑوں برس تک کافی ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے خود ان سے رابطہ کر کے حملہ نہ کرنے اور معاہدہ کرنے کی بات کی تھی۔ ان کے بقول "یہی اصل حقیقت ہے اور سب اس سے آگاہ ہیں۔” تاہم ایران اس سے قبل ایسے امریکی دعوؤں کی تردید کر چکا ہے۔

سلامتی، قومی مفادات یا سرزمین کو خطرہ لاحق ہوا تو پوری قوت سے کارروائی کی جائے گی، ایرانی صدر

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھانے کا خواہاں نہیں، تاہم ملکی سلامتی، قومی مفادات اور سرزمین کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کشیدگی کا دائرہ وسیع نہیں کرنا چاہتا اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کا خواہاں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی سلامتی، قومی مفادات یا سرزمین کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران امن کی پالیسی پر کاربند ہے، لیکن اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مزید خبریں

Back to top button