سندھ ہزاروں سال پرانی تاریخ اور تہذیب کا امین ہے،بچہ بچہ اپنی سرزمین کی حفاظت اور دفاع کرے گا،سسی پلیجو

ٹھٹھہ(رپورٹ:جاوید لطیف میمن )سابق صوبائی وزیر اور سینیٹر محترمہ سسی پلیجو نے کہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح ہائبرڈ حکومت کے وفاقی وزراء اپنی کوتاہیوں اور نااہلی کو چھپانے کے لیے اپنی خراب طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے بجائے صوبوں کی تقسیم کی بات کر رہے ہیں، جو نہ پہلے قابلِ قبول تھی اور نہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام ایسا کوئی فیصلہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کو اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنی تھی تو وہ حکومت کی نااہلیوں کا ذکر پارلیمنٹ میں بھی کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح غیر سیاسی افراد ہی سیاسی معاملات کو بدتر بنانے کا سبب بنے ہیں۔ پاکستان ایسے رویوں سے بھرا پڑا ہے، پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا اور عوام کی حقِ حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تمام اختیارات کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں فارم 47 کے ذریعے حکومت قائم کی گئی جبکہ آج کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) مبینہ دھاندلی کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
سسی پلیجو نے کہا کہ جب تک چھوٹے صوبوں کو محرومیوں سے نجات نہیں دلائی جاتی اور انہیں آئین کے مطابق مکمل صوبائی خودمختاری نہیں دی جاتی، اس وقت تک بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال قدیم تہذیب کی حامل سندھ کو تقسیم کرنے کی بات سندھ کے عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور وہ محسن نقوی کی اس مبینہ سازش کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی نفرتیں پیدا کرنے والی باتیں کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم کی زبان بول رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا ساتھ دینے کے بجائے عوام کے جذبات کو سمجھنا چاہیے، اور اگر وہ عوام کا ساتھ نہیں دے سکتے تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا وفاقی حکومت انہیں کابینہ سے الگ کر دے، کیونکہ ایسے افراد معاشرے میں نفرتیں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ان کے لیے دھرتی ماں کی حیثیت رکھتا ہے، جو ہزاروں سال پرانی تاریخ اور تہذیب کا امین ہے۔ سندھ کا بچہ بچہ اپنی سرزمین کی حفاظت اور دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہی وہ پہلا صوبہ تھا جس نے قیامِ پاکستان کی قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور کی تھی، لہٰذا آئین کے تحت سندھ کو حاصل حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی خراب حکمرانی کا بوجھ صوبوں کی شناخت ختم کرکے نہ نکالے۔



