مون سون کی تباہ کاریاں: تھرپارکر میں 5 افراد ڈوب کر جاں بحق، آسمانی بجلی سے درجنوں مویشی ہلاک، کئی علاقے زیرِ آب

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی،جانوڈاٹ پی کے)مون سون کی مسلسل بارشوں نے ضلع تھرپارکر میں تباہی مچا دی۔ مختلف علاقوں میں برساتی پانی میں ڈوبنے کے واقعات، آسمانی بجلی گرنے اور ٹریفک حادثات کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، مویشیوں کی ہلاکت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی علاقے تاحال زیرِ آب ہیں۔
پولیس کے مطابق تحصیل مٹھی کے گاؤں بھکوئو میں 11 سالہ مہتاب ولد وشنو اور 12 سالہ شہدیو ولد کستورو، دونوں میگھواڑ برادری سے تعلق رکھتے تھے، برساتی پانی سے بھری ترائی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے لاشیں پانی سے نکال کر سول اسپتال مٹھی منتقل کر دیں۔
ادھر تحصیل ڈیپلو کے گاؤں کاریہار میں 25 سالہ عقیدالرحمن ولد اسلم لنجو برساتی پانی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جان کی بازی ہار گیا، جبکہ تحصیل چھاچھرو کے گاؤں رنچھانی میں 28 سالہ لیموں ولد ہمیر میگھواڑ بھی برساتی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔
اسی طرح تحصیل نگرپارکر کے گاؤں کاسبو میں 10 سالہ ایک بچہ برساتی پانی سے بھرے گڑھے میں گر کر ڈوب گیا، جس سے مون سون کے دوران ڈوبنے سے جاں بحق افراد کی تعداد پانچ ہوگئی۔
بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے مویشی پالنے والوں کو بھی شدید مالی نقصان پہنچایا۔ تحصیل مٹھی کے گاؤں ہریار میں گوردھن بھیل کی 12 بکریاں ہلاک ہوگئیں، جبکہ اسلام کوٹ کے گاؤں ٹابھو بھیل میں دیوجی بھیل کی 15 بکریاں اور نگرپارکر کے گاؤں بھرواڑی میں بھگڑومل بھیل کی 30 بکریاں آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئیں۔
نگرپارکر کے گاؤں کاروڑو دل میں لیاقت دل کی دو گائیں اور ایک بچھڑا بھی آسمانی بجلی کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے، جبکہ گاؤں منہتار کے قریب کھیت میں کام کے دوران بجلی گرنے سے ایک کسان کا ہل میں جتا ہوا اونٹ بھی ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا اسلام کوٹ میں تاج پٹرول پمپ کے قریب بیراجی سے نگرپارکر جانے والے بھینسوں کے ریوڑ کو ایک کوسٹر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں متعدد بھینسیں زخمی ہوگئیں جبکہ مزدور رمیش ولد مورو بھیل بھی زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر سرکاری اسپتال اسلام کوٹ منتقل کر دیا گیا۔ حادثے کے بعد ڈرائیور اور گاڑی کا مالک موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب مسلسل بارشوں کے باعث ڈیپلو شہر کا بڑا حصہ برساتی پانی میں ڈوب چکا ہے، جبکہ کلوئی کے رابطہ راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اسی طرح ضلع عمرکوٹ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جہاں کئی داخلی اور خارجی راستے زیرِ آب آنے سے آمدورفت متاثر ہو گئی ہے۔
مقامی شہریوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں، نکاسیٔ آب کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندانوں اور مویشی پالنے والوں کی مالی معاونت کی جائے۔



