1880 کا تاریخی وزیرآباد ریلوے جنکشن حکومتی عدم توجہی کے باعث خستہ حالی کاشکار

وزیرآباد (جانوڈاٹ پی کے)برطانوی دورِ حکومت 1880 میں تعمیر ہونے والا تاریخی ریلوے جنکشن وزیرآباد حکومتی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کی تصویر بن چکا ہے۔ ملک کے اہم ترین اور قدیمی ریلوے جنکشنز میں شمار ہونے والی یہ تاریخی عمارت آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ متعدد وفاقی وزراء، اعلیٰ ریلوے حکام اور ڈائریکٹرز کے دوروں اور اعلانات کے باوجود اس قومی ورثے کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے جا سکے۔حالیہ مون سون بارشوں نے ریلوے اسٹیشن کی مخدوش حالت کو مزید آشکار کر دیا۔ اسٹیشن کی چھتیں مختلف مقامات سے ٹپکنے لگیں، جس کے باعث ویٹنگ ہال، ٹکٹ گھر اور دفاتر میں پانی جمع ہو گیا۔ بارش کا پانی ٹکٹ گھر میں نصب کمپیوٹر سسٹم تک پہنچنے سے آن لائن ٹکٹنگ نظام بھی کچھ وقت کے لیے معطل رہا، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق بارشوں اور ریلوے ٹریک کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سیالکوٹ سیکشن پر ٹرین آپریشن بھی متاثر ہوا، جبکہ ماضی میں بھی ناقص مینٹیننس کے باعث مختلف حادثات پیش آ چکے ہیں۔ مسافروں نے شکایت کی کہ بارش کے دوران نہ ویٹنگ ہال محفوظ رہا اور نہ ہی دیگر مقامات، جس سے سفری مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔شہری، سماجی اور تجارتی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے، چیئرمین پاکستان ریلوے اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تاریخی ریلوے جنکشن وزیرآباد کی فوری بنیادوں پر مرمت، بحالی اور تزئین و آرائش کی جائے۔ ریلوے لائنوں کی جدید خطوط پر مینٹیننس، مسافروں کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی، وزیرآباد سے گزرنے والی ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ اور مختلف ٹرینوں کے اسٹاپ کے دورانیے میں توسیع بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تاریخی ریلوے جنکشن وزیرآباد صرف ایک اسٹیشن نہیں بلکہ قومی ورثہ ہے، جس کی حفاظت اور بحالی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تاریخی عمارت مزید نقصان کا شکار ہو سکتی ہے، جو ایک ناقابلِ تلافی قومی نقصان ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button