دفعہ144بھی بے اثر،کلوئی میں قیمتی درختوں کی مبینہ کٹائی عروج پر

تھرپارکر (جانو ڈاٹ پی کے)دفعہ 144 کی پابندی کے باوجود کلوئی میں قیمتی درختوں کی مبینہ کٹائی جاری، لالو وھندانی اور گردونواح میں لکڑی مافیا کے سرگرم ہونے کا الزام، قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔

کلوئی تعلقہ کے گاؤں لالو وھندانی اور گردونواح میں قیمتی درختوں کی مبینہ بڑے پیمانے پر کٹائی نے علاقے کے قدرتی ماحول کے تحفظ پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق کونبھٹ، کنڈی اور جار سمیت قیمتی درخت کاٹ کر لکڑی منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کیے جانے کے باوجود درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی منتقلی نہیں رک سکی۔ باخبر ذرائع کے مطابق قیمتی درختوں کے مبینہ ٹھیکے غیر مقامی افراد کو دیے گئے ہیں، جو علاقے میں درختوں کی کٹائی میں مصروف ہیں۔

دیہاتیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا تو علاقے کا قدرتی حسن تباہ ہونے کے ساتھ جنگلی نباتات اور جنگلی حیات کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق غیر مقامی ٹھیکیداروں کی مبینہ سرگرمیوں کے باعث جنگلاتی درختوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ مقامی آبادی کی جانب سے بھی مؤثر آواز نہ اٹھائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں نے ایس ایس پی تھرپارکر، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر، اسسٹنٹ کمشنر کلوئی، مختیارکار کلوئی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، درختوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی روکی جائے اور قدرتی وسائل، جنگلاتی نباتات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button