چین کا اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ، آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت دہرا دی

چین خطے میں اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے

بیجنگ (ویب ڈیسک): چین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرے، انسانی بنیادوں پر امداد کی مکمل رسائی کی اجازت دے اور فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے۔ چین نے دو ریاستی حل کی اپنی دیرینہ حمایت کو بھی دہرایا ہے۔

ترکیہ کے خبر رساں ادارے "انادولو” کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین خطے میں اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے اور غزہ کے عوام کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش رکھتا ہے۔

گو جیاکن نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اُن کے مطابق فلسطینی مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کا مرکز ہے، اور اسرائیل کو چاہیئے کہ وہ مزید تباہی سے گریز کرے اور عوامی مشکلات میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

چینی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ چین متعلقہ فریقین، خصوصاً اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ میں فوجی کارروائیاں بند کرے، محاصرہ اور ناکہ بندی ختم کرے، اور امدادی سامان کی بلارکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ریاستی حل ہی فلسطینی مسئلے کا واحد، مؤثر اور پائیدار راستہ ہے، اور چین ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

گو جیاکن کا کہنا تھا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی، دو ریاستی حل کے عملی نفاذ اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ و دیرپا حل کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے سات اکتوبر دو ہزار تیئیس سے غزہ پر تباہ کن حملے شروع کیے ہوئے ہیں جن میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور علاقے میں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اُن کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جبکہ اسرائیل کو اس وقت عالمی عدالت میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button