پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا جن بے قابو: عوام 16 گھنٹے اندھیرے میں رہنے پر مجبور

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان بھر میں بجلی کے بحران نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جس نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ پنجاب کے دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں 16، 16 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ نے زندگی مفلوج کر دی ہے، لیکن حکمران طبقہ اس وقت تک خاموش رہا جب تک اس کی تپش اسلام آباد اور لاہور کے پوش علاقوں تک نہیں پہنچی۔
دیہاتوں میں کسان اور عام آدمی مہینوں سے ذلیل ہو رہا ہے، مگر ہمارے "ایلیٹ صحافیوں” اور بیوروکریسی کو اس وقت ہوش آیا جب ان کے اپنے چیمبرز اور گھروں کی بجلی بند ہوئی۔ عوام سے میٹر کا کرایہ بھی وصول کیا جاتا ہے اور بجلی چوری کا بوجھ بھی انہی کے بلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ 2026 میں بھی حال یہ ہے کہ اگر کسی گاؤں کا کھمبا گر جائے تو واپڈا اہلکار رشوت لیے بغیر اسے ٹھیک نہیں کرتے۔ گیس کی صورتحال بھی یہی ہے کہ اچھے علاقوں میں سپلائی موجود ہے جبکہ باقی ملک میں صرف چند گھنٹے گیس دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی محاذ پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ امریکہ نے خلیج عمان میں ایران کی سمندری ناکہ بندی کر کے اسے الٹی میٹم دیا ہے کہ "یا تو ہمارے ساتھ معاہدہ کرو یا پھر جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ”۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیکس نے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی ملک کا جہاز (بشمول چین اور روس) ایرانی بندرگاہوں تک نہیں جا سکے گا۔
یہ ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے تحت ‘اعلانِ جنگ’ (Act of War) ہے۔
اگر ایران نے امریکی دباؤ میں آ کر اپنی شرائط پر سمجھوتہ کیا تو اسے مستقبل میں لیبیا جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک مشکل پوزیشن میں ہے جہاں وہ خطے میں امن کے لیے ثالثی تو کر رہا ہے، لیکن اسے اپنے داخلی توانائی کے بحران اور گورننس کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ: توصیف احمد خان
مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:




