دنیا میں ہر سال ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع،64کروڑ50لاکھ افراد غذائی قلت کاشکار

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار رہے، جو عالمی آبادی کا 7.8 فیصد بنتے ہیں۔ یہ شرح 2024 میں 8.1 فیصد تھی، تاہم کووڈ 19 کی وبا سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں خوراک کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مالدیپ میں فی کس خوراک کا ضیاع سب سے زیادہ بتایا گیا ہے، جہاں ہر شخص سالانہ تقریباً 260 کلوگرام خوراک ضائع کرتا ہے۔

شام، ڈومینیکن ری پبلک، سیشلز، میکسیکو اور تیونس بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں فی کس سالانہ خوراک کا ضیاع 210 کلوگرام سے زیادہ ہے، جبکہ اسپین میں یہ مقدار تقریباً 39 کلوگرام یا اس سے کم ریکارڈ کی گئی۔

الجزیرہ کے مطابق صارفین کے لیے دستیاب خوراک میں سے تقریباً ایک ارب 5 کروڑ ٹن خوراک 2022 میں ضائع ہوئی۔ اس میں 60 فیصد حصہ گھروں، 28 فیصد ہوٹلوں اور دیگر کھانے پینے کی خدمات جبکہ 12 فیصد دکانوں کا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خوراک کا ضیاع عالمی معیشت کو سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب ہیکٹر زرعی زمین ایسی خوراک اگانے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو بالآخر کھائی نہیں جاتی۔

گھروں میں خوراک کا ضیاع کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق خریداری سے پہلے کھانے کی منصوبہ بندی، ضرورت کے مطابق اشیا خریدنے اور خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے سے ضیاع کم کیا جاسکتا ہے۔ بچا ہوا کھانا بروقت استعمال کرنا، ضرورت سے زیادہ کھانا پکانے سے گریز کرنا اور پہلے سے موجود اشیا کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنا بھی مؤثر اقدامات ہیں۔

اس کے علاوہ خوراک کی تاریخ اور معیار سے متعلق لیبل سمجھنے اور قابلِ استعمال کھانے کو خراب ہونے سے پہلے فریز کرنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خوراک کا ضیاع کم کرنے سے پیسے بچانے کے ساتھ زرعی زمین، توانائی اور دیگر قدرتی وسائل کے غیر ضروری استعمال میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button