اے آئی کی دوڑ خطرناک موڑ پر! سابق محقق نے انسانیت کے خاتمے کا خدشہ ظاہر کردیا
اے آئی کی تیز رفتار ترقی، انسانیت کے خاتمے کا خطرہ؟ سابق محقق کا تہلکہ خیز انتباہ

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر عالمی سطح پر بحث بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ اے آئی کمپنی اینتھراپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے ملازمت سے استعفیٰ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اینتھراپک اور حریف کمپنی اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں انسانی زندگی کے لیے انتہائی بڑے خطرات مول لے رہی ہیں۔
جیکب کوکسن، جو دونوں کمپنیوں میں محقق کے طور پر کام کرچکے ہیں، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اس خدشے کے باعث استعفیٰ دیا کہ اے آئی تیار کرنے والی کمپنیاں ’’ہماری زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں‘‘۔
ان کے مطابق اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والے بعض افراد سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
کوکسن نے خبردار کیا کہ جدید اے آئی کی صلاحیتوں کو کم سمجھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے اے آئی سسٹمز انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتے ہیں، سائبر حملے کرسکتے ہیں، مختلف شعبوں میں غیر معمولی رفتار سے تبدیلی لا سکتے ہیں اور حقیقی دنیا میں طاقت اور وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
ان کے بیان کے بعد سلیکون ویلی میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کی حفاظت سے متعلق جاری بحث ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ اینتھراپک اور اوپن اے آئی جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تیاری میں مسلسل پیش رفت کررہی ہیں، جبکہ متعدد محققین اے آئی کی ترقی کی رفتار کو زیادہ محفوظ اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کے چیف سائنٹسٹ جیکب پاشوکی نے بھی ایک بلاگ پوسٹ میں خبردار کیا کہ فی الحال کوئی بھی اے آئی کمپنی ’الائنمنٹ‘ اور نگرانی کے مسائل کو اس حد تک حل نہیں کرسکی کہ جدید ترین اے آئی سسٹمز کی ترقی کو زیادہ سے زیادہ رفتار سے طویل عرصے تک ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔
اے آئی میں ’الائنمنٹ‘ سے مراد ایسے نظام تیار کرنا ہے جو انسانی اقدار، مقاصد اور ہدایات کے مطابق کام کریں۔ پاشوکی کے مطابق جب تک مشترکہ حفاظتی معیار طے نہیں ہوجاتے، اے آئی کی ترقی کی رفتار کو رضاکارانہ طور پر کم کرنا معمول بننا چاہیے۔ انہوں نے حکومتوں پر بھی زور دیا کہ مستقبل کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دی جائے۔
خود کو بہتر بنانے والی اے آئی، نیا خطرہ؟
اس بحث کا ایک اہم پہلو ’ریکَرسیو سیلف امپروومنٹ‘ ہے، یعنی ایسا اے آئی نظام جو اپنے اگلے ورژن کو خود ڈیزائن اور بہتر بنانے کے قابل ہو۔ فی الحال یہ صلاحیت عملی طور پر مکمل شکل میں موجود نہیں، تاہم اے آئی کمپنیوں اور محققین کی جانب سے اس کے ممکنہ خطرات پر مسلسل بات کی جارہی ہے۔
جیکب کوکسن نے الزام عائد کیا کہ اینتھراپک اور اوپن اے آئی ذمہ داری کے تقاضوں کے مطابق کام نہیں کررہیں اور خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلی جنس کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
اینتھراپک کے اے آئی الائنمنٹ شعبے سے وابستہ ایون ہبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اگلی دہائی میں اے آئی کے ہاتھوں پوری انسانیت کے خاتمے کے امکان کو 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اینتھراپک اپنی پوری کوشش کررہی ہے، لیکن سپر انٹیلی جنس کے لیے الائنمنٹ کا مسئلہ حل کرنے کا ابھی کوئی مکمل منصوبہ موجود نہیں۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ انسان مستقبل کے طاقتور اے آئی سسٹمز کو کس حد تک محفوظ، قابلِ نگرانی اور انسانی مفادات کے مطابق رکھ سکے گا۔



