امریکا کا ایران پر مالیاتی وار: مرکزی بینک سے منسلک 13 کروڑ ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ایران کے مالیاتی ذرائع کے خلاف نئی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے مبینہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل کیے جانے والے فنڈز تک رسائی محدود کرنے کی کوششیں مزید تیز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام امریکی محکمۂ خزانہ کی وسیع مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے ایرانی سرگرمیوں کی مبینہ مالی معاونت کو روکنا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک متعدد کرپٹو والیٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے نتیجے میں 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے گئے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ واشنگٹن ایران کے مالیاتی ذرائع کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا تاکہ ایرانی حکومت کو مبینہ غیر قانونی آمدنی سے حاصل ہونے والے وسائل تک رسائی سے محروم رکھا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی رقوم کا سراغ لگانے اور انہیں روکنے کی کارروائیاں جارحانہ انداز میں جاری رہیں گی۔
نوٹ: امریکی حکام نے یہ اقدامات ایران کی مبینہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے تناظر میں بیان کیے ہیں۔ اس خبر میں ایران کا باضابطہ مؤقف شامل نہیں ہے۔



