اقوام متحدہ نے بھارت سے اقلیتی ووٹروں کے نام حذف کرنے پر جواب طلب کر لیا

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ نے انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں نام حذف کیے جانے پر بھارت سے جواب مانگ لیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے 3 خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے الزامات پر جواب طلب کر لیا ہے۔
خط میں بھارت سے مذہب اور نسلی بنیاد پر حذف کیے گئے ووٹروں کا تفصیلی ڈیٹا طلب کرتے ہوئے کہا گیا کہ مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے اور 12 ریاستوں میں تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ نام حذف کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ نمائندوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں سے ناموں کو بڑے پیمانے پر حذف کرنے سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نمائندوں اس حوالے سے نے اپیلوں، اعتراضات اور ان کے فیصلوں کی مکمل تفصیلات بھارتی حکومت سے 60 دن کے اندر طلب کر لی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں مغربی بنگال میں بھارتی الیکشن کمیشن کے خصوصی نظرثانی پروگرام (SIR) کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طور پر نندی گرام اسمبلی حلقے کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ووٹر نظرثانی پروگرام کے عمل سے ایک حلقے، یعنی نندی گرام، میں مبینہ طور پر حذف کیے گئے ووٹرز میں 95 فیصد مسلمان تھے، حالانکہ اس حلقے کے مجموعی ووٹرز میں مسلمانوں کا تناسب صرف 25 فیصد ہے۔



