بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔
سماعت سےقبل عمران خان کو 3مرتبہ ویڈیو لنک پر پیشی کیلئے پیغام بھیجا گیا،ساڑھے10بجے پہلی باررابطے پر بتایا گیا کہ وہ11بجےویڈیو لنک پر پیش ہوں گے،11بجےرابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ عمران خان پیش ہو رہے ہیں،11بجکر25منٹ پر رابطہ کرنے پروہ ویڈیولنک پر پیش ہوئے۔
عمران خان نے مقدمہ اور قانونی نکات کے بجائے سیاسی گفتگو شروع کردی
سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک نے عمران خان سے اکیلے میں بات کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی وکیل صفائی سے بات کرائی تاہم عمران خان نے مقدمہ اور قانونی نکات کے بجائے سیاسی گفتگو شروع کردی۔
اس موقع پر وکلا صفائی نے عمران خان کوبتایا کہ ویڈیو لنک نوٹیفکیشن کو ہائیکورٹ چیلنج کررہے ہیں، آپ کی اس نوٹیفکیشن پرکیا ہدایت ہے، اس پر عمران خان نے وکلا کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ دیا۔
عمران خان کی ہدایت کے بعد وکلا صفائی عدالت سے باہر چلے گئے
عمران خان کی ہدایت کے بعد وکلا صفائی عدالت سے باہر چلے گئے تاہم عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیے۔
عدالت نے سماعت کےدوران استغاثہ کے2گواہان کی شہادت قلمبند کی جس میں سب انسپکٹر سلیم قریشی اور سب انسپکٹر منظورشہزاد نے بیان ریکارڈ کرایا جبکہ دونوں گواہان کی جانب سے ویڈیوکلپس پرمشتمل5یوایس بی عدالت میں پیش کی گئیں۔
بانی پی ٹی آئی پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ویڈیو لنک پرہی پیش ہوں گے
عدالت نے عمران خان کی کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنےکی درخواست خارج کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ویڈیو لنک پرہی پیش ہوں گے۔
عدالت نے کیس کی سماعت23ستمبرتک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے، پیمرا،پی آئی ڈی، انٹرنل سکیورٹی اور وزارت داخلہ کے10گواہان طلب کرلیے۔
Back to top button