امریکہ کا ایران جنگ سے پسپائی کا پلان؟ صدر ٹرمپ کو اہم ترین فوجی مشیر نے ہلا کر رکھ دیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی دفاعی و عسکری حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے جہاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی جنگ سے فوری نکلنے کا غیر معمولی مشورہ دے دیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جنرل ڈین کین ایران کے ساتھ جاری تصادم سے نکلنے کا محفوظ راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جنگ میں مزید شدت لانے کے تمام فوجی آپشنز کا نتیجہ انتہائی منفی نکل سکتا ہے، اور محض فضائی طاقت کے بل بوتے پر اس جنگ کو جیتا جانا بالکل ناممکن ہے۔
جنرل کین نے اس حوالے سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کو بھی اپنے خدشات سے آراستہ کرتے ہوئے جنگ بندی کے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ سخت فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو ڈیل پر مجبور کیا جا سکتا ہے، تاہم عسکری قیادت بشمول جنرل کین اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے انفراسٹرکچر، بشمول پلوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایرانی عوام کی حمایت حاصل ہونے کے بجائے امریکہ کے خلاف شدید ردِعمل اور مخالفت جنم لے رہی ہے۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ اور اسرائیل اس تنازع کو مزید طول دینے اور آپریشنز کو وسیع کرنے کے حامی ہیں، جس سے خطے میں مزید کشیدگی اور امریکی پالیسی میں گہرے اختلافات واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔



