امریکی کسانوں کیلئے اناج کی ریل ترسیل مہنگی، فیول سرچارج ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں مکئی، سویابین اور دیگر اناج کی ریل کے ذریعے ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا، ریل کمپنیوں کے فیول سرچارج گزشتہ ایک سال کے دوران دوگنے سے بھی زیادہ ہوکر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔

امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے دوسرے ہفتے میں اناج کی ترسیل پر اوسط فیول سرچارج 48 سینٹ فی ریل کار فی میل تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے وزنی اوسط کے مقابلے میں 153 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریل کمپنیاں فیول سرچارج بنیادی طور پر ایندھن کے بڑھتے اخراجات پورے کرنے کیلئے وصول کرتی ہیں، جسے طویل فاصلے کی مال برداری کی فیس میں شامل کیا جاتا ہے۔ 10 ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق مکئی اور سویابین کی ریل کے ذریعے مجموعی ترسیلی لاگت میں فیول سرچارج کا حصہ 11 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل صرف 5 فیصد تھا۔

امریکا میں مکئی اور سویابین کی کٹائی شروع ہونے کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کیلئے نقل و حمل کے اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ ریل انجنوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمت بھی 6 ڈالر فی گیلن سے اوپر پہنچ گئی۔

ریل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا براہ راست اثر کسانوں کو ملنے والی فصل کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔ ریل کمپنیاں جب اضافی اخراجات اناج خریدنے اور آگے منتقل کرنے والے شپرز پر ڈالتی ہیں تو کسانوں کو فصل کی فروخت میں کمزور ’’بیسس‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں مارکیٹ قیمت کے مقابلے میں کم معاوضہ ملتا ہے۔

کنساس کے گندم اور جوار کے کاشتکار گیری ملرشاسکی کے مطابق ان کے مقامی اناج مرکز پر گندم کی قیمت کنساس سٹی ہارڈ ویٹ فیوچرز قیمت سے تقریباً 70 سینٹ فی بشل کم ہے، جبکہ معمول کے حالات میں یہ فرق تقریباً 40 سینٹ ہوتا ہے۔

نارتھ ڈکوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی کے فصلوں کی معاشیات کے ماہر فرین اولسن کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں کسانوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، کیونکہ جب فی بشل منافع صرف چند سینٹ ہو تو نقل و حمل کی لاگت میں معمولی اضافہ بھی آمدن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی ریل کمپنیاں بھی فیول سرچارجز کے ذریعے اپنے ایندھن کے اخراجات کا بڑا حصہ پورا کر رہی ہیں۔ امریکی سرفیس ٹرانسپورٹیشن بورڈ کے مطابق ریل کمپنیوں نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں تقریباً 3 ارب ڈالر فیول سرچارجز کی مد میں وصول کیے، جو ان کے ڈیزل اخراجات کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔

یوں فصلوں کی کٹائی کے اہم سیزن میں بڑھتی ہوئی ایندھن اور ریل ترسیل کی لاگت امریکی کسانوں کے منافع پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button