اردوان کی ریاض پر حوثیوں کے حملے کی مذمت،سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان

استنبول(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش نئے چیلنجوں کے تناظر میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کے دفاع کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
انہوں نے ریاض میں حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کے ساتھ اعلان کیا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو مؤثر اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کا عمل جاری ہے اور معاہدے کی داخلی منظوری کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ خطے میں تنازعات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، تاہم ترکیہ اپنے گرد بحرانوں کے باوجود استحکام، اعتماد اور امن کے ایک مضبوط مرکز کی حیثیت سے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان سے یمن اور ایران تک پھیلے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور بالخصوص پراکسی قوتوں کے ذریعے مختلف مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری اور باہمی تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ اختلافات کو میدانِ جنگ میں لے جانے کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام ترکیہ کے اصولی مؤقف کی بنیاد ہے۔
صدراردوان نے خبردار کیا کہ خطے کو تقسیم اور انتشار سے دوچار کرنے کی کوششیں صرف ان شرپسند عناصر کے مفادات پورے کریں گی جو پورے علاقے کو خون میں نہلانا چاہتے ہیں۔
صدر اردوان نے 10 اکتوبر کو حوثیوں کی جانب سے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ ان کے مطابق اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔
انہوں نے جاں بحق ہونے والوں، جن میں عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے، کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکیہ قانون اور انسانیت کے منافی ایسے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔



