’’مزاحمت کیلئے تہران کے پاس کچھ نہیں بچا‘‘ٹرمپ کا ایران پر وار،حملہ ہوا توسب تباہ کردینگے،ایران کا جواب

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ’’فولادی دیوار‘‘ بن چکی ہے اور ایران کے پاس اس کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کی فوجی اور معاشی صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کو ہر محاذ پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
’’ایران کے پاس مؤثر بحریہ اور فضائیہ باقی نہیں‘‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب مؤثر بحریہ موجود نہیں جبکہ اس کی فضائیہ بھی باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایرانی فوج کے باقی ماندہ اہلکاروں کو تنخواہیں تک نہیں مل رہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے پاسداران انقلاب کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایرانی فورسز آبنائے ہرمز سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔
’’آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول ہے‘‘
ٹرمپ نے اپنے بیان میں انتہائی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اب امریکی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے اور ایرانی قیادت بھی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے سامنے تہران کے پاس مزاحمت کے لیے مؤثر وسائل باقی نہیں رہے۔
ایران کی معیشت پر بھی شدید حملہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے پاس پیسہ ختم ہوچکا ہے اور اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے ایران میں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ معاشی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اب ’’جعلی خبریں‘‘ پھیلا کر صورتحال سنبھالنے کی کوشش کررہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو ’’مشرق وسطیٰ کا بدمعاش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی سابقہ حیثیت اب باقی نہیں رہی۔
ٹرمپ کے بیان میں مذہبی جملہ بھی شامل
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر نے ’’Praise be to Allah‘‘ یعنی ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے۔
ٹرمپ کا یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
روزانہ 140 جہازوں سے صرف 8 تک آمدورفت
رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 130 سے 140 تجارتی بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم منگل کے روز صرف 8 بحری جہازوں کے گزرنے کی اطلاع سامنے آئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل میں اس کا انتہائی اہم کردار ہے۔
عالمی تیل منڈی پر دباؤ بڑھ گیا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری آمدورفت میں کمی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث تیل کی عالمی منڈیوں، شپنگ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیان نے ایران امریکا کشیدگی کو ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان کسی بھی نئے تصادم کے خدشات نے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں کی نظریں بھی اس اہم سمندری گزرگاہ پر مرکوز کردی ہیں۔



