ٹرمپ کے امن مشن کا غزہ کیلئے66پروگراموں پر مشتمل منصوبہ سامنے آگیا

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مشن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 2.45 ارب ڈالر کے منصوبے کی نقاب کشائی کردی۔

منصوبے کے مطابق یہ رقم آئندہ چھ ماہ کے دوران 66 مختلف پروگراموں پر خرچ کی جائے گی، جن میں عارضی رہائش کی فراہمی، ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے بجلی کی پیداوار، کچرے اور جنگی ملبے کی صفائی سمیت دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں۔

امن ٹیم کے مطابق منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کے لیے مزید فنڈنگ درکار ہے۔ مختلف ممالک اور عطیہ دہندگان کی جانب سے اب تک 18 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں، تاہم فی الحال صرف 280 ملین ڈالر دستیاب ہوئے ہیں۔

امریکی امن مشن کے اندازے کے مطابق غزہ کی مکمل تعمیر نو اور بحالی کے لیے آئندہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور امن کمیشن کے غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے رکن جیرڈ کشنر نے اعتراف کیا کہ منصوبے کو مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس کا مقصد منصوبے پر عملدرآمد کے لیے گروپ کے عزم کو واضح کرنا تھا۔

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے اجلاس میں کہا کہ گروپ نے گزشتہ ایک سال کے دوران حقیقی پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق انسانی ہمدردی کی کوششوں کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں جبکہ فوری ضروریات اور طویل مدتی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر عطیہ یا مختص کیے گئے ہیں۔

منصوبے کے لیے فنڈز کا حصول واحد چیلنج نہیں، بلکہ غزہ میں امدادی اور تعمیر نو کے لیے کام کرنے والے افراد کی سکیورٹی، داخلی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور اسرائیلی و فلسطینی حکام کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا بھی اہم مسائل قرار دیے گئے ہیں۔

حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق امریکی ثالثی میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 300 بچے بھی شامل ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button