غزہ میں تباہی اور بھوک، جبری بے دخلی کی کوششیں جاری ہیں، فلسطینی صدر

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے)فلسطین کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وفد کو شرکت سے روکنے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
محمود عباس نے کہا کہ فلسطین کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنا ناقابل قبول ہے، جبکہ فلسطینی وفد کو روکنے کا اقدام میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔
فلسطینی صدر نے امریکا پر زور دیا کہ فلسطینی وفد پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ ان کے مطابق غزہ میں فلسطینی عوام کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے جبکہ علاقے میں تباہی اور بھوک کی صورتحال برقرار ہے۔
محمود عباس نے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کی کوششوں کا سامنا ہے اور ان کے بقول وہاں نسل کشی کی جنگ جاری ہے۔فلسطینی صدر نے غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل تمام فریقوں کے لیے امن کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے اور واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے۔محمود عباس نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی روک تھام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام روکا جائے تاکہ ایک اور نکبہ کی صورتحال پیدا نہ ہو۔



