وسطی ایشیا کے لیے نئے تجارتی راستے فعال، پاکستان علاقائی تجارت کا اہم مرکز بننے کی جانب گامزن

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وسطی ایشیائی ریاستوں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے نئے تجارتی راستوں کی فعالیت کے بعد پاکستان علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ حب بننے کی جانب اہم پیش رفت کر رہا ہے۔
پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے منسلک کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جبکہ ازبکستان نے بھی پاکستان تک رسائی کے لیے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے نئے تجارتی کوریڈورز کے استعمال کا آغاز کر دیا ہے۔
آذربائیجان کے میڈیا ادارے "دی کیسپیئن پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق تاشقند نے پاک۔ایران سرحد کے راستے مشینری اور خام مال کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ ان نئے کوریڈورز نے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک اضافی اور متبادل تجارتی راستہ فراہم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں سکیورٹی خدشات کے باعث طورخم اور چمن بارڈر کی بندش کے بعد پاکستان نے متبادل تجارتی راستے متعارف کرائے تھے۔ ان نئے روٹس کے ذریعے اب تک 14 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو منتقل کیا جا چکا ہے، جو اس نئے لاجسٹک نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کی مد میں وسطی ایشیائی ریاستوں سے سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نئے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ٹی آئی آر (TIR) نظام اور سنگل ونڈو کسٹمز پلیٹ فارم کے فروغ میں بھی مدد ملے گی، جبکہ سی پیک فیز ٹو کے تحت گوادر بندرگاہ کا علاقائی تجارت میں کردار مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔



