تھرپارکرمیں’’جنگل کا قانون‘‘برقرار،گاؤں مالو میگھواڑ پر حملہ،نوجوان شدید زخمی،پولیس پر بااثر وڈیروں کے پاس گروی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں پرانے جاگیردارانہ نظریات اور ’’جنگل کا قانون‘‘ آج بھی برقرار ہے۔ کلوئی تھانے کی حدود کے ٹی علاقے میں واقع گاؤں مالو میگھواڑ پر ایک بار پھر لنڈ برادری کے افراد نے مبینہ طور پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر، تقریباً 10 خواتین سمیت حملہ کر دیا۔
حملے کے دوران گھر کے قریب موجود دیوی کے درخت کو کاٹنے والے نوجوان موہن لال ولد سانوڻ میگھواڑ کو لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔ ورثا زخمی نوجوان کو کلوئی تھانے لے گئے، جہاں سے پولیس لیٹر جاری ہونے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔
متاثرین کے مطابق این سی درج ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ متاثرہ فریق نے الزام عائد کیا کہ ریونیو عملہ اور پولیس تھانے چند بااثر وڈیروں کے زیرِ اثر ہیں، جس کے باعث ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ لنڈ برادری کے افراد مبینہ طور پر وڈیروں کی ایما پر اب تک ان پر تقریباً 10 حملے کر چکے ہیں، مگر پولیس نے کسی ایک واقعے پر بھی سنجیدہ ایکشن نہیں لیا، بلکہ الٹا گاؤں آ کر انہیں دباؤ میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
گاؤں والوں نے بتایا کہ عدالت میں درخواست دینے کے باوجود مخالفین روزانہ حملے کر کے انہیں خوفزدہ اور قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زخمی موہن لال اور دیگر دیہاتیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ پولیس بھی جانبدارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے باعث وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ غریب لوگوں کے پاس زمین، اپنا گاؤں اور اسکول ہونا بعض وڈیروں کو کھٹکتا ہے، اور یہی تعصب مسلسل تنازعات اور حملوں کی وجہ بن رہا ہے۔
متاثرین نے خبردار کیا کہ اگر بااثر طبقے نے پرانے جاگیردارانہ رویے ترک نہ کیے تو ان کا سیاسی اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا، کیونکہ ’’مالک سب کے اعمال دیکھ رہا ہے۔



