انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط بیانی اور اثاثے چھپانے پر جرمانوں کا فیصلہ

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے، اثاثے چھپانے اور ریکارڈ میں ردوبدل کرنے والے ٹیکس فائلرز کے خلاف جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گوشواروں میں درج تفصیلات کی جانچ پڑتال کے لیے خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لی جائے گی۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹیکس فائلرز کی ملک بھر میں موجود جائیدادوں اور دیگر اثاثوں سے متعلق ڈیٹا دستیاب ہے، جس کی مدد سے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ معلومات کا موازنہ کیا جائے گا تاکہ غلط بیانی اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر انکم ٹیکس گوشواروں کو اپنے دستیاب ڈیٹا کے ساتھ خودکار نظام کے تحت چیک کرے گا، جبکہ معلومات کی تصدیق اور ریکارڈ میں ممکنہ تضادات سامنے لانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق گوشواروں میں اثاثے چھپانے یا ریکارڈ میں ردوبدل کرنے پر سخت جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارہ غلط پُر کرنے کی صورت میں تنخواہ کے 75 فیصد تک جرمانہ عائد ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مقررہ وقت پر جرمانہ جمع نہ کرانے کی صورت میں یومیہ ایک ہزار روپے اضافی جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹیکس فائلرز کے پاس انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطیوں کی تصحیح کے لیے 15 اکتوبر سے پہلے درستگی کرانے کی گنجائش موجود ہے۔ ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گوشواروں میں درج آمدن، اثاثوں اور دیگر معلومات کا بغور جائزہ لیں اور کسی بھی غلطی یا تضاد کی بروقت تصحیح یقینی بنائیں۔

ایف بی آر کے اس اقدام کا مقصد گوشواروں میں ظاہر کردہ معلومات کی جانچ پڑتال اور ممکنہ ٹیکس بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ تاہم جرمانوں سے متعلق حتمی اطلاق اور تفصیلی شرائط کے لیے متعلقہ سرکاری قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button