بدین میں گندم کے آٹے کی اور ٹماٹر کی قیمتیں اچانک آسمان پر پہنچ گئیں

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)بدین میں گندم کے آٹے کی اور ٹماٹر کی قیمتیں اچانک آسمان پر پہنچ گئیں جس کے باعث درمیانے اور نچلے طبقے اور مزدور طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہے آٹا چکی مالکان نے گندم مہنگی ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے آٹے کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے دو دن پہلے گندم کے آٹے کا ایک من کا تھیلا ساڑھے آر ہزار روپے کا تھا اچا نک پانچ روپے کے اضافے سے پانچ ہزار روپے فی من قیمت میں فروخت کیا جا رہا ہے اور شہر میں آٹا 145 روپے فی کلو جبکہ دیہی علاقوں میں 150 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے اسی طرح کچھ دن پہلے ٹ۔اٹر ساٹھ روپے پھر ایک سو روپے کلو سے اچانک دہائی سو سے تین سو روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے تو دوسری طرف اچھے سے اچھا عام ایک سے ڈیڑھ سو روپے فی کلو قیمت میں فروخت کیا جا رہا تھا آم کی ایک کلو تین سو روپے تک آ گئی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ آٹے ٹماٹر آ م سمیت اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے فرمانے اور نچلے طبقے اور محنت کش طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کھانے بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے بدین شہر اور گردونواح میں گزشتہ دو روز کے دوران آٹے کی قیمت سمیت اشیاء خوردونوش کے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے پہلے آٹا 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا، مگر اب اس کی قیمت بڑھ کر 145 سے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ صرف 500 روپے دیہاڑی پر کام کرتے ہیں، ایسے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گیا ہے مزدور طبقے اور شہریو نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ آٹے کی قیمتوں پر فوری طور پر کنٹرول کرے تاکہ غریب عوام کو مناسب نرخوں پر آٹا دستیاب ہو سکے دوسری جانب چکی مالکان کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے اور حکومت کی جانب سے گندم کی فراہمی نہیں ہو رہی، جس کے باعث گزشتہ دو روز سے آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور وہ اسے تقریباً 140 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے پر مجبور ہیں

مزید خبریں

Back to top button