پاکستان کا اقوام متحدہ سے خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے کا مطالبہ، کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر زور

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان نے اقوام متحدہ سے خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور فوجی توسیع خطے کے امن و استحکام کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ دنیا میں جنگوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، بین الاقوامی قانون کی عمل داری کمزور پڑ رہی ہے اور تحمل و برداشت کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
طاہر اندرابی نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں پیش رفت ہوئی۔
انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ بھارت کے جارحانہ عسکری نظریات اور بڑے پیمانے پر فوجی توسیع کے باعث جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور دباؤ کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتا، تاہم اپنی ضروریات کے مطابق دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے خبردار کیا کہ جوہری صلاحیتوں کی موجودگی کو جنگ پر مکمل قابو پانے کی ضمانت سمجھنا درست نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی میں کمی، تحمل اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔



