وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔

مونال ریسٹورنٹ کی بندش کیخلاف سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کر دی۔

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھا دیے، جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیرالتواء تھا، کچھ ریسٹورنٹس کی انٹراکورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیرالتواء تھیں۔

وکیل مونال ریسٹورنٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیرالتواء کیسز نمٹانے کا حکم دیدیا، جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے؟

وکیل احسن بھون نے کہا کہ ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ کھڑے تھے، جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں ٹھوس نکات تو اٹھائے ہی نہیں گئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے، تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، احسن بھون نے کہا کہ تمام فریقین متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ وکلاء کے اتفاق سے تو عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے وہ اتفاق رائے سے نہیں ختم ہوسکتا، عدالتی حکم واپس لینے کیلئے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا؎

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے، آپ چاہتے ہیں ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

مزید خبریں

Back to top button