سن اسکرین وٹامن ڈی کی دشمن: سچائی کیا ہے؟

ایمل سفیان

​ایک طرف چہرے کی شادابی اور جلد کو سورج کی تپش سے بچانے کا فکر، اور دوسری طرف یہ وسوسہ کہ کہیں سن اسکرین ہمارے جسم سے وٹامن ڈی کا خاتمہ تو نہیں کر رہی؟ آج کل یہ الجھن ہر اس شخص کے ذہن پر سوار ہے جو اپنی صحت اور شخصیت کے لیے تھوڑا سا بھی محتاط ہے۔ چہرے پر کریم لگاتے ہی دل میں یہ خیال آتا ہے کہ ہم نے شاید سورج کی ان شعاعوں کا راستہ خود ہی بند کر دیا ہے جو ہماری ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن طبی حقیقت اور سائنسی شواہد اس معاملے میں ایک بالکل مختلف اور اطمینان بخش تصویر پیش کرتے ہیں۔

​سائنس بتاتی ہے کہ دنیا کی بہترین اور طاقتور ترین سن اسکرین بھی سورج کی شعاعوں کو سو فیصد روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ کتنی ہی موٹی تہہ لگا لی جائے، روشنی کی کچھ نہ کچھ مقدار چوری چھپے جلد تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے جسم کو وٹامن ڈی بنانے کے لیے شدید دھوپ میں گھنٹوں تپنے کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر کی بالکونی میں کھڑے ہونے، گاڑی تک چل کر جانے یا روزمرہ کے مختصر کاموں کے دوران جتنی روشنی ہماری جلد جذب کرتی ہے، وہ وٹامن ڈی کا نظام فعال رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

​دوسری اہم بات ہماری روزمرہ کی عادات ہیں۔ عملی طور پر کوئی بھی شخص لیبارٹری کے سخت اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہر دو گھنٹے بعد سن اسکرین کی تہہ دوبارہ نہیں چڑھاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری جلد کو دن بھر میں اتنی شعاعیں مل ہی جاتی ہیں جو اس کی غذائی ضرورت پوری کر سکیں۔ محض اس ڈر سے سن اسکرین سے منہ موڑ لینا کہ یہ وٹامن ڈی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، اپنے ہاتھ سے اپنے چہرے کو جھلسانے اور وقت سے پہلے جھریوں، چھائیوں اور جلد کے کینسر جیسے سنگین مسائل کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

​اگر آپ کو واقعی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کا خدشہ ہے، تو اس کا دانشمندانہ حل یہ ہرگز نہیں کہ خود کو تیز دھوپ میں جلا لیا جائے۔ اس کے بجائے اپنی غذا میں انڈے، مچھلی اور دودھ شامل کریں یا ڈاکٹر کے مشورے سے ایک سادہ سا سپلیمنٹ لیں۔ لہٰذا بے فکر ہو کر سن اسکرین کا استعمال جاری رکھیں، چہرے کو تروتازہ رکھیں اور اس بے بنیاد ڈر کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔

مزید خبریں

Back to top button