سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں، سندھ کوئی بیکری کا کیک نہیں، سندھی ادبی سنگت ٹھٹھہ

ٹھٹھہ (رپورٹ: جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) سندھی ادبی سنگت شاخ ٹھٹھہ کے اجلاس میں مقررین نے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سندھ کوئی بیکری کا کیک نہیں جسے ہر کوئی کاٹ کر کھا جائے، سندھ کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔”

نامور ادیب و شاعر محمد رمضان میمن کی صدارت میں ہونے والے تنظیمی اجلاس میں ادیبوں اور شاعروں نے متفقہ طور پر کہا کہ سندھ کی وحدت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مقررین نے کہا کہ وفاقی وزیر محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو سندھ کی تقسیم سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جسے سندھ کے ادیب اور شاعر دھرتی کی وحدت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی حیثیت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔

اجلاس کے دوران ادیبوں اور شاعروں نے اپنی نئی تخلیقات بھی تنقید و اصلاح کے لیے پیش کیں۔ فقیر اکرم منگھنہار نے گیت، ڈاکٹر محمد مارو نے خشک چوسٹا، اختر بروہی، احسان ہالیپوٹو، محمد خان ملاح اور محمد رمضان میمن نے غزلیں، فقیر غلام حسین گگدام خاصخیلی نے بیت، سید شوکت علی شاہ شیرازی نے منقبت، جبکہ صوفی جاوید مسن، عزیز پلیجو، شہمیر شاد اور لعل بخش کاتیار نے اپنی ادبی تخلیقات پیش کیں، جن پر شرکاء نے تنقیدی اور اصلاحی آراء دیں۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ انور آرزو میمن نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سرِ سارنگ کی وائی پیش کرکے محفل کو روحانی رنگ بخشا۔

مزید خبریں

Back to top button