سندھ میں 40 لاکھ سے زائد بچیاں اسکول سے باہر، صنفی عدم مساوات کی پہلی رپورٹ سامنے آگئی

کراچی(جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ 2023-24 نے صوبے میں تعلیم اور دیگر شعبوں میں صنفی فرق کی سنگین تصویر پیش کردی، رپورٹ کے مطابق سندھ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد اور خواتین کی 47 فیصد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سوڈھو نے رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیہی سندھ میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 27.52 فیصد ہے، جبکہ 5 سے 16 سال کی عمر کی بڑی تعداد میں بچیوں کا تعلیم سے محروم ہونا ایک اہم چیلنج ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ میں خواتین کی صحت کے حوالے سے زچگی کے دوران اموات کی شرح میں کمی ہوئی ہے اور یہ شرح فی ایک لاکھ پیدائشوں پر 314 سے کم ہوکر 224 ہوگئی ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار پیدائشوں پر 24 ریکارڈ کی گئی۔
خواتین کی سرکاری و عوامی اداروں میں نمائندگی بھی محدود ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں خواتین کی نمائندگی 4.34 فیصد، پراسیکیوٹرز میں 18.3 فیصد اور ججز میں 13.7 فیصد ہے۔ 2024 میں صوبے میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,085 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ کی روشنی میں صوبائی محکموں کو صنفی فرق کم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی اور تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور عوامی نمائندگی میں خواتین کے لیے مواقع بہتر بنانے پر زور دیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکومت سندھ نے رپورٹ کو پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں رہنمائی کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



