بدین: سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو کی برسی، سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)نامور سیاستدان اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو کی برسی،سیاسی سماجی علمی ادبی کاروباری شخصیات اور پارٹی کارکنوں کی شرکت مرحوم کی خدمات پر خراجِ تحسین تفصیل کے مطابق سندھ کے نامور سیاستدان، سابق صوبائی وزیر صحت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر سکندر علی میندھرو کی برسی کے موقع پر میندھرو ہاؤس بدین میں منعقد دعائیہ تقریب میں مرحوم کے فرزند زکریا سکندر میندھرو ضلع کونسل بدین کے وائس چیئرمین اور پیپلز پارٹی تحصیل بدین کے صدر فدا حسين میندھرو پیپلز کلچرل ونگ کے ضلع صدر انجینئر ذوالفقار علی میندھرو ، پیپلزپارٹی ضلع بدین کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سجاد چانڈیو سابق رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد نواز چانڈیو پیپلزپارٹی کے رہنما حاجی میر ملاح رفیق میمن بدین پریس کلب کے صدر شوکت میمن جنرل سیکرٹری عبدالشکور میمن سمیت دیگر سیاسی سماجی کاروباری علمی ادبی شخصیات کارکنوں شہریوں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، اس موقع پر مرحوم کی مغفرت وہ درجات کی بلندی اور ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور دعا مغفرت مانگی گئی ۔ اس موقع پر شرکاء نے ڈاکٹر سکندر میندھرو کی سیاسی سماجی خدمات پیپلزپارٹی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد اور قربانیوں پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو کی شخصیت سندھ کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس میں عوامی خدمت اصول پسندی سیاسی وفاداری اور ترقیاتی سوچ کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی نظریات سے متاثر رہے اور پوری زندگی پارٹی اور شہید بے نظیر بھٹو سے وفاداری نبھاتے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں سیاسی حالات کے باعث انہیں وطن چھوڑنا پڑا شرکاء نے کہا مسلسل پانچ مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونا مرحوم کی عوامی مقبولیت اور لوگوں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے وہ مختلف ادوار میں سندھ حکومت میں اہم وزارتوں پر فائز رہے اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرتے رہے۔ 2018ء میں وہ ٹیکنوکریٹ نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے جہاں بھی انہوں نے سندھ بالخصوص ضلع بدین کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ مقررین نے کہا ڈاکٹر سکندر مندرو صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ضلع بدین کی ترقی اور خوشحالی کے معمار بھی تھے۔ ان کی کوششوں سے صحت، تعلیم، مواصلات اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی۔ بدین میں انڈس اسپتال جیسے عالمی معیار کے طبی ادارے کے قیام میں بھی ان کا اہم کردار رہا، جہاں آج بھی ہزاروں مریض مفت اور معیاری علاج کی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں کیڈٹ کالج سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے قیام اور ترقی کے لیے انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ان کے دور میں بدین کے کئی دیہاتوں تک قدرتی گیس کی سہولیات پہنچیں، متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے، سڑکیں تعمیر ہوئیں بجلی کے منصوبے مکمل کیے گئے اور دور دراز علاقوں کو بنیادی سہولیات سے جوڑا گیا کئی علاقوں میں پینے کے پانی، نکاسی آب اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے عوام کی زندگی میں بہتری آئی۔ شرکاء کا مذید کہنا تھا کہ مرحوم سندھ کے پانی کے حقوق کے حوالے سے بھی ایک سنجیدہ اور بااصول آواز تھے۔ سندھ اسمبلی، سینیٹ اور دیگر فورمز پر انہوں نے پانی کی منصفانہ تقسیم، بدین اور ساحلی علاقوں میں پانی کی قلت، زرعی مسائل اور آبادگاروں کے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کی



