موبائل کے زیادہ استعمال سے بچوں کی ذہنی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ

لندن(جانوڈاٹ پی کے)بچوں میں موبائل فون اور دیگر اسکرینز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر بچوں میں توجہ کی کمی، بولنے میں تاخیر، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عارضی بھول پن جیسی علامات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے "ورچوئل آٹزم” کا نام دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے طویل وقت تک موبائل فون، ٹیبلیٹ یا ٹی وی اسکرین کے سامنے رہتے ہیں تو ان کی ذہنی، سماجی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے باعث بعض بچوں میں آٹزم سے مشابہ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جن میں دوسروں سے میل جول میں کمی، محدود گفتگو، چڑچڑاپن اور توجہ برقرار رکھنے میں دشواری شامل ہیں۔

اسپیچ تھراپسٹ ڈاکٹر فائزہ کے مطابق ورچوئل آٹزم کی علامات آٹزم سے کافی حد تک مشابہ ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں بول چال کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور وہ سماجی سرگرمیوں میں دلچسپی کم لینے لگتے ہیں۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود رکھا جائے اور انہیں موبائل، ٹی وی اور ورچوئل گیمز کے غیر ضروری استعمال سے بچایا جائے۔

چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالجبار کا کہنا ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافہ بچوں کی نشوونما کے لیے ایک تشویشناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو اگر اسکرین استعمال کروائی بھی جائے تو والدین کی نگرانی میں معیاری اور عمر کے مطابق مواد تک محدود رکھا جانا چاہیے۔

ماہرین والدین پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو کھیل کے میدانوں، جسمانی سرگرمیوں اور سماجی میل جول کی طرف راغب کریں، ان کے ساتھ معیاری وقت گزاریں اور انہیں اسکرینوں سے دور رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ورچوئل آٹزم جیسی علامات اور دیگر ذہنی و سماجی مسائل سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button