پہلے حسینہ دوپھردورہ ہوگا!بنگلہ دیش نے بھارت کو بڑا سفارتی جھٹکا دے دیا

ڈھاکا (جانو ڈاٹ پی کے) بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی، ڈھاکا نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا معاملہ وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ بھارت سے جوڑ دیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق نئی دہلی کی جانب سے شیخ حسینہ کی واپسی کے معاملے پر پیش رفت کے بغیر وزیراعظم کا دورہ مشکل ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہدول کریم نے وزیراعظم طارق رحمان کے اگلے ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق رپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی دورے کے لیے پہلے ’’سازگار ماحول‘‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈھاکا بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور افراد کی واپسی کے معاملے میں اپنی کوششیں تیز کرے۔ دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست موصول ہوچکی ہے اور اسے قانونی اور عدالتی تقاضوں کی روشنی میں زیرِ غور لایا جارہا ہے۔

شیخ حسینہ کے بیانات نے کشیدگی بڑھا دی؟

بنگلہ دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ بھارت میں موجود شیخ حسینہ کی جانب سے میڈیا پر مسلسل بیانات دینے سے دونوں ملکوں کے درمیان معاملات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شیخ حسینہ نے بھارت سے بیانات دیتے ہوئے موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دسمبر میں وطن واپسی کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

ڈھاکا نے بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کو میڈیا سے گفتگو کی اجازت ملنے پر بھی سخت ردعمل دیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے اسے اپنے ملک کی خودمختاری کے حوالے سے انتہائی حساس معاملہ قرار دیا۔

بھارت کا مؤقف کیا ہے؟

نئی دہلی نے تاحال شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کی کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق حوالگی کی درخواست قانونی عمل کے تحت زیرِ غور ہے اور اس معاملے میں قانونی و عدالتی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں حکومت مخالف احتجاج اور سیاسی بحران کے بعد بھارت چلی گئی تھیں۔ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی، تاہم شیخ حسینہ نے الزامات اور عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

بھارت کا ممکنہ دورہ پھر غیر یقینی

حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے بڑھے ہیں اور وزیراعظم طارق رحمان اور بھارتی ہائی کمشنر دنیش تریواڈی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔ اس کے بعد تعلقات میں بہتری اور طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ بھارت کی قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں۔

تاہم تازہ پیش رفت سے واضح ہے کہ شیخ حسینہ کی حوالگی کا معاملہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ بھارت اور بنگلہ دیش اعلیٰ سطحی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن ڈھاکا واضح طور پر چاہتا ہے کہ حسینہ کے معاملے پر پیش رفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش آگے نہ بڑھے۔

یوں ایک سابق وزیراعظم کی حوالگی کا معاملہ اب بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقات اور وسیع تر سفارتی تعلقات کے لیے فیصلہ کن امتحان بن گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button