بشکیک میں شہباز شریف اور ایرانی صدر کی اہم ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

بشکیک (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر موجود ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاک ایران تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور دوطرفہ تعاون کے موجودہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاک ایران تعلقات مزید گہرے کرنے پر اتفاق

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔

فریقین نے مختلف شعبوں میں جاری تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی، جبکہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا بنایا جائے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود صلاحیتوں اور مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعاون کو نئی سطح تک لے جایا جاسکتا ہے۔

مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فریقین نے باہمی روابط کو فروغ دینے اور ایسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں دونوں ممالک کے لیے مشترکہ مواقع موجود ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات کو دونوں ممالک کے تعلقات کی اہم بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت وقتاً فوقتاً تجارت، توانائی، سرحدی روابط اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتی رہی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم اجلاس

وزیراعظم شہباز شریف اس وقت تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان میں ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔

کرغزستان پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالیف نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔

وزیراعظم یکم ستمبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب بھی کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

علاقائی امن و استحکام پاکستان کی ترجیح

ایس سی او سربراہی اجلاس پاکستان کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ اجلاس کے دوران علاقائی سلامتی، معاشی تعاون، باہمی روابط اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال سمیت مختلف امور پر رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے خطے میں امن، استحکام اور معاشی روابط کے فروغ پر زور دیتا آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات بھی اسی وسیع تر علاقائی سفارت کاری کا حصہ سمجھی جارہی ہے۔

ایرانی صدر سے ملاقات کی اہمیت

مسعود پزشکیان کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور ایران دونوں خطے میں باہمی تعاون اور روابط بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے اور قیادت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

تازہ ملاقات میں بھی دونوں رہنماؤں نے موجودہ صلاحیتوں اور دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور تہران دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

یوں بشکیک میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات نے پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو ایک بار پھر نمایاں کردیا، جبکہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کی علاقائی سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button