ڈونڈڑی گاؤں کا سرکاری پرائمری اسکول خستہ حال،قیمتی سامان کی مبینہ چوری

تھرپارکر (رپورٹ:میندھرو کاجھروی /جانو ڈاٹ پی کے)تعلقہ ڈیپلو کی یونین کونسل تلوڄام کے گاؤں ڈونڈڑی میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول (سیمنس کوڈ: 406020392) کی عمارت گزشتہ 12 سے 13 برسوں سے مرمت نہ ہونے کے باعث خستہ حالی کا شکار ہے، جبکہ دیہاتیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر افراد نے اسکول کے دو کمروں سے سرکاری سامان مبینہ طور پر چوری کرکے اپنے گھروں میں استعمال کیا ہے۔

دیہاتیوں کے مطابق اسکول سے دروازے، لوہے کے سریے، گارڈر، ٹائر، بڑی تعداد میں اینٹیں، ٹائلیں اور ایک این جی او کی جانب سے نصب کردہ ہینڈ پمپ (نلکا) سمیت دیگر قیمتی سرکاری سامان رات کے اوقات میں لے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین برسوں سے سپریم کورٹ ون مین کمیشن، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر حلیم جاگیرانی، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا سمیت مختلف فورمز پر اسکول کی بحالی کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اسکول کے لیے ایک اضافی کمرہ تعمیر کرنے کا کام اس وقت جاری ہے، جس پر دیہاتیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کر رہی ہے۔

دیہاتیوں نے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم زاہد علی عباسی، ڈی او پرائمری تھرپارکر نصراللہ ساہڑ، ٹی او پرائمری ڈیپلو لالدین راہمون، چیئرمین یونین کونسل تلوڄام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کے سامان کی مبینہ چوری کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور چوری شدہ سامان فوری طور پر اسکول کو واپس دلایا جائے۔

دیہاتیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ آئین اور قانون کے تحت احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button