ماتلی:پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کے اربوں روپے کلیمز التوا کا شکار،متاثرین پریشان

ماتلی( رپورٹ ایم آر گدی /جانو ڈاٹ پی کے ) پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کارپوریشن ایک بڑے مالیاتی بحران کی تصویر پیش کر رہا ہے جہاں ملک بھر کے ہزاروں متاثرہ پالیسی ہولڈرز کی زندگی بھر کی جمع پونجی، بچت اور مستقبل کے خواب اربوں روپے کی صورت میں برسوں سے التوا کا شکار ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے پانچوں صوبوں سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان سمیت آزاد کشمیر کے متاثرین مسلسل اپنی رقوم کی ادائیگی کے منتظر ہیں جن میں بڑی تعداد سرکاری ملازمین، اساتذہ، ریٹائرڈ افراد اور عام شہریوں کی ہے جنہوں نے پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کارپوریشن کو اس اعتماد کے ساتھ ماہانہ بنیادوں پر اپنی تنخواہوں اور محدود آمدن سے رقوم جمع کروائیں کہ یہ ادارہ ان کے بچوں کی شادیوں، گھروں کی تعمیر، علاج معالجے اور بڑھاپے کے سہارے کا محفوظ ذریعہ ثابت ہوگا مگر آج وہی ادارہ ان کے لیے شدید غیر یقینی اور ذہنی اذیت کی علامت بن چکا ہے، متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں کے دفاتر اور شکایتی مراکز سے بار بار رابطہ کر چکے ہیں مگر کہیں بھی انہیں واضح جواب نہیں ملتا اور اکثر یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ فنڈز کی فراہمی کے بعد ادائیگیاں کر دی جائیں گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اربوں روپے کے کلیمز آج بھی زیر التوا ہیں، متاثرین کے مطابق شکایتی نمبرز یا تو بند ملتے ہیں یا معلومات فراہم نہیں کرتے جس کے باعث وہ اپنی ہی جمع پونجی کے بارے میں مکمل طور پر بے خبر اور پریشان ہیں، متاثرہ شہریوں نے اس صورتحال کو ایک سنگین مالی و انتظامی بحران قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طویل عرصے سے فعال اور عوامی اعتماد پر قائم رہنے والا پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کارپوریشن ادارہ آخر کس وجہ سے اس قدر بڑے مالیاتی تعطل کا شکار ہوا اور اس کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، ذرائع کے مطابق ادارے کی جانب سے عمومی طور پر فنڈز کی عدم دستیابی اور بجٹ کے اجرا میں تاخیر کو وجہ بتایا جاتا ہے تاہم متاثرین اور عوامی حلقے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ آڈٹ، شفاف تحقیقات اور فوری ادائیگیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، متاثرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے کیونکہ شہریوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اس امید پر اس نظام کے حوالے کی تھی کہ یہ ان کے مشکل وقت میں سہارا بنے گا مگر آج وہی سہارا ان کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے، متاثرین نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، اربوں روپے کے زیر التوا کلیمز کی ترجیحی بنیادوں پر ادائیگی یقینی بنائی جائے اور اس پورے نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کی جمع پونجی یوں غیر یقینی صورتحال کا شکار نہ ہو اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

مزید خبریں

Back to top button