قزاقوں کا جہاز پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

کراچی(ویب ڈیسک) بحری جہاز آنر 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

مغوی پاکستانیوں میں سے ایک مغوی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

آڈیو میں امین بن شمس نے کہا کہ ابو ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جارہے ہیں۔

امین بن شمس نے روتے ہوئے کہا کہ مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیے گا، عائشہ (اہلیہ) اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کرلیے گا، خدا حافظ۔

امین بن شمس کے والد نے کہا کہ ہمارا ایک ہی بچہ ہے اور روزگار کے لیے ہم نے اسے بھیجا تھا، وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، پہلی بار گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ ہوگیا، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ کسی طرح ہمارے بچے کو صحیح سلامت واپس لائے۔

مغوی کی اہلیہ عائشہ نے کہا کہ میرے شوہر نے یہی بتایا کہ ہوائی فائرنگ کرکے ہمیں ڈرایا جارہا ہے اور ہمیں مارنے کے لیے لے جایا جارہا ہے، جس بچے سے میں ابھی تک ملا نہیں، مجھے نہیں لگتا اب اس سے کبھی مل پاؤں گا۔

شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا، جہاز پر 11 پاکستانی کریو بھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی کریو سے رابطہ نہیں ہوسکا جب کہ جہاز پر بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔

ایک متاثرہ خاندان نے بتایا کہ انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا قذاقوں سے بات چیت کر رہا ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button