سندھ کی تقسیم کی بات ناقابلِ قبول، سسی پلیجو کا ایم کیو ایم رہنماؤں کو سخت جواب

ٹھٹھہ(جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی رہنما، سابق صوبائی وزیر اور سابق سینیٹر سسی پلیجو نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا۔

اپنے ویڈیو بیان میں سسی پلیجو نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار جیسے رہنما، جو ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں تھے، آج متحد ہو کر پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور سندھ و سندھیوں کے خلاف زہریلی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی سرزمین ہمارے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے اسے ’’متروکہ سندھ‘‘ قرار دینے کی بات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

سسی پلیجو کا کہنا تھا کہ سندھ نے قیام پاکستان کے وقت آنے والے لوگوں کو اپنی سرزمین پر جگہ دی اور سندھ میں آباد اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام اردو بولنے والے سندھ کی تقسیم کے حامی نہیں، تاہم ان کے بقول چند سیاسی گروہ ’’متروکہ سندھ‘‘ جیسے بیانیے کے ذریعے نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی رہنما نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم جیسے گروہ ہمیشہ دوسروں کے کہنے پر استعمال ہوتے رہے ہیں اور ان کی اپنی کوئی سیاسی سوچ یا وزن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی سرزمین اور وسائل کے تحفظ کے لیے ہر سازش کے سامنے کھڑے ہیں اور سندھ کی تقسیم کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سسی پلیجو نے کہا کہ آئین یا قانون میں ترمیم کے نام پر سندھ کی تقسیم کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے رہنما ’’اسرائیل والی زبان‘‘ بول رہے ہیں اور کراچی کے عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں رہنے والے سندھی اور غیر سندھی، جو سندھ کو اپنا وطن سمجھتے ہیں، اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام اپنے تاریخی وطن اور وسائل کی بقا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور کسی بھی سیاسی گروہ کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button