پنجاب چائلڈپروٹیکشن بیورو کی بڑی کامیابی،50ہزار سے زائدبچوں کو ریسکیو کرلیا،پاک فوج اور اہم اداروں میں خدمات انجام دینے لگے

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن اور رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 10 ہزار 400 بچوں کو ریسکیو کرکے تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ بیورو کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے اب تک ریسکیو کیے جانے والے بچوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) میں لیکچر کے بعد دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سارہ احمد نے کہا کہ عالمی ادارے کی جانب سے لیکچر کے لیے مدعو کیا جانا ان کے لیے اعزاز ہے۔ اس موقع پر انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی اور بچوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکے۔

سارہ احمد کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ریسکیو کیے گئے بچوں میں سڑکوں پر رہنے والے، بے سہارا، تشدد یا زیادتی کا شکار ہونے والے اور والدین کی جانب سے تنہا چھوڑ دیے جانے والے بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تحویل میں لینا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد ان کی خوراک، تعلیم، تربیت، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیورو کے اپنے اسکول ہیں، جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ گمشدہ یا گھر سے بھاگنے والے بچوں کو ان کے والدین اور اہلِ خانہ سے دوبارہ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے بچے جنہیں والدین واپس قبول نہیں کرتے، جنہیں چھوڑ دیا جاتا ہے یا جن کے والدین جیل میں ہوتے ہیں، ان کی کفالت اور بحالی کی ذمہ داری بھی بیورو اٹھاتا ہے۔

چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کہا کہ بچوں کو مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں خودمختار زندگی گزار سکیں۔ گزشتہ ماہ بیورو میں پرورش پانے والے ایک یتیم بچے کو پاکستان آرمی میں بطور سپاہی بھرتی کیا گیا، جبکہ بیورو کی بعض بچیاں نرسز بن کر مختلف اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور کچھ بچے ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کر رہے ہیں۔

سارہ احمد نے بتایا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائن 1121 چوبیس گھنٹے فعال ہے، جہاں کوئی بھی شخص بچوں کے ساتھ تشدد، زیادتی، غفلت یا کسی دوسرے مسئلے کی اطلاع دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال ہیلپ لائن پر تقریباً 6 ہزار 900 کالز موصول ہوئیں۔

ملتان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے پر بات کرتے ہوئے سارہ احمد نے اس کی مذمت کی اور بتایا کہ وسیم عباس نامی بچے کے زیرِ قیام یتیم خانے نے چند روز قبل بیورو میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دی تھی، جسے مسترد کردیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں بیورو کی ٹیم نے وہاں کارروائی کرتے ہوئے مزید 16 کم عمر بچوں کو ریسکیو کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق آگاہی کے لیے مہم بھی جاری ہے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی ٹیمیں گھر گھر جا کر شہریوں کو آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button