سندھ میں نئے صوبے کی کوئی گنجائش نہیں، فیصلہ صرف سندھ کے عوام کریں گے، سعید غنی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی سندھ کے عوام اس کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق نئے صوبے بنانے کا اختیار صرف منتخب اسمبلیوں کو حاصل ہے اور اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ پنجاب میں بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سندھ اسمبلی میں آج تک نئے صوبے کے قیام سے متعلق کوئی قرارداد پیش نہیں ہوئی۔ انہوں نے وفاقی وزیر محسن نقوی کے حالیہ بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے سندھ کے عوام کا مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے کراچی میں پانی کے بحران پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو تقریباً 100 کلومیٹر دور سے پانی فراہم کیا جاتا ہے اور کئی علاقوں کے مکین آج بھی ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، اس لیے متبادل نظام کے بغیر ٹینکر سروس بند کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

سعید غنی نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ماضی میں وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتی رہی، جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ سے حکومت بنائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو عوام نے مسترد کر دیا، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button