پنجاب کی 7 سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے قوانین تبدیل، وائس چانسلرز کو وسیع انتظامی اختیارات مل گئے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب کی سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے قوانین میں اہم ترامیم کرتے ہوئے نیا آرڈیننس نافذ کردیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز سیکنڈ ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کردیا، جس کا سرکاری گزٹ بھی شائع ہوگیا ہے۔
نئے آرڈیننس کے تحت میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو چیف ایگزیکٹو اور چیف اکیڈمک آفیسر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ وائس چانسلرز کو متعلقہ یونیورسٹیوں کے افسران، اساتذہ اور دیگر ملازمین پر انتظامی کنٹرول بھی حاصل ہوگا۔
ترمیمی آرڈیننس کے مطابق متعلقہ میڈیکل کالجوں، تدریسی ہسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اداروں کا انتظامی کنٹرول بھی وائس چانسلرز کے دائرہ اختیار میں شامل کردیا گیا ہے۔
نئی قانونی ترامیم کے تحت کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی متعلقہ یونیورسٹی کے ذیلی کالج کی حیثیت بحال کردی گئی ہے، جبکہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے ذیلی کالج کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے ذیلی کالج کے طور پر قانونی حیثیت بھی بحال کردی گئی ہے۔
آرڈیننس کے ذریعے راولپنڈی میڈیکل کالج اور نشتر میڈیکل کالج ملتان کی متعلقہ یونیورسٹیوں کے ذیلی کالجوں کی حیثیت بھی بحال کردی گئی ہے۔
ترمیمی قانون میں میڈیکل یونیورسٹیوں کی انتظامی اور فیصلہ ساز باڈیز میں محکمہ خزانہ کی نمائندگی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیکرٹری خزانہ یا کم از کم ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے کا نامزد افسر متعلقہ یونیورسٹی باڈیز کا حصہ ہوگا۔
مزید برآں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی متعلقہ باڈیز میں محکمہ قانون کی نمائندگی بھی شامل کردی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق نئے آرڈیننس کا مقصد سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں، ان سے منسلک کالجوں اور تدریسی ہسپتالوں کے انتظامی، مالیاتی اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہے۔



