نیب جرمانہ 20 سال بعد بھی وصول کیا جا سکتا ہے، قید کاٹنے سے مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات میں جرمانے کی عدم ادائیگی پر قید کاٹنے کے باوجود ملزم کی مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی اور جرمانے کی رقم 20 سال بعد بھی وصول کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس محمد امجد پرویز پر مشتمل بینچ نے اس حوالے سے 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے مہر محمد باقر کی جانب سے جرمانے کی وصولی روکنے کے لیے دائر درخواست خارج کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو 20 لاکھ روپے کی وصولی کا عمل تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر ایک سال قید کاٹ لینے سے ملزم اپنی مالی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ نیب آرڈیننس کے تحت جرمانے کی رقم بقایاجاتِ مال گزاری کے طور پر وصول کی جا سکتی ہے اور اس عمل کو دہری سزا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نیب مقدمات میں جرمانے کی وصولی کے لیے چھ سالہ قانونی مدت کی پابندی لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ اس معاملے میں نیب کے خصوصی قانون کو فوقیت حاصل ہے۔
فیصلے کے مطابق بدعنوانی کے مقدمات میں عائد جرمانوں کی وصولی کی قانونی ذمہ داری برقرار رہتی ہے، خواہ ملزم عدم ادائیگی کے باعث قید کی سزا بھی کاٹ چکا ہو۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 20 لاکھ روپے کی جرمانے کی رقم کی وصولی تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔



