ہتکِ عزت کا دعویٰ مدتِ معیاد پر خارج کرنے کا حکم کالعدم، حکومتی تاخیر کی سزا شہری کو نہیں دی جا سکتی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ہتکِ عزت کا دعویٰ مدتِ معیاد کی بنیاد پر خارج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خصوصی ٹربیونل قائم نہ ہونے کی صورت میں کسی شہری کو ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس مرزا وقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل بینچ نے اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے محمد فاروق ملک کی اپیل منظور کر لی اور معاملہ دوبارہ ہتکِ عزت ٹربیونل کو بھجوا دیا۔ عدالت نے متعلقہ فورم کو ہدایت کی کہ دعوے کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اگر حکومت ہتکِ عزت کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ٹربیونل قائم کرنے میں تاخیر کرے تو شہری مقررہ قانونی مدت کے اندر سول عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ خصوصی ٹربیونل کے قیام میں حکومتی تاخیر کی وجہ سے شہری کا قانونی حق ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس انتظامی تاخیر کا خمیازہ شہری کو بھگتنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق قانون کسی شہری سے ایسے فورم سے رجوع کرنے کا تقاضا نہیں کر سکتا جو اس وقت قانونی طور پر قائم ہی نہ ہوا ہو۔ ریاست اگر کسی شہری کو قانونی حق فراہم کرتی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے خصوصی فورم مقرر کرتی ہے تو اس فورم کے قیام میں تاخیر کی ذمہ داری شہری پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ نے ٹربیونل کے قیام سے قبل ہی سول عدالت سے رجوع کیا تھا، جبکہ ٹربیونل قائم ہونے کے بعد اس نے بلا تاخیر متعلقہ فورم سے رجوع کیا۔ ایسے حالات میں محض خصوصی ٹربیونل کے تاخیر سے قیام کی بنیاد پر شہری کے دعوے کو خارج کرنا درست نہیں۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق محمد فاروق ملک نے 28 جولائی 2025 کو سول عدالت سے رجوع کیا تھا، جبکہ پنجاب حکومت نے 22 ستمبر 2025 کو ہتکِ عزت ٹربیونلز قائم کیے۔ سول عدالت کی جانب سے دعویٰ واپس کیے جانے کے بعد اپیل کنندہ نے 13 نومبر 2025 کو متعلقہ ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ٹربیونل کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ ہتکِ عزت کے دعوے پر قانون کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button