ڈیپلو: ویرہارڑ گاؤں میں مبینہ شراب نوشی اور دھمکیوں کے خلاف رہائشیوں کا احتجاج، تحفظ کی اپیل

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ڈیپلو کے گاؤں ویرہاڑ کے رہائشیوں نے پرتاب ٹھکر اور چمجی ٹھکر کے خلاف مبینہ طور پر روزانہ نئے افراد کو بلا کر شراب نوشی کرنے، گھروں کے قریب شور شرابا کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔

رہائشیوں کے مطابق پرتاب ٹھکر اور چمجی ٹھکر ان کے گھروں کے قریب بیٹھ کر مبینہ طور پر شراب اور وہسکی پیتے ہیں اور رات ایک سے دو بجے تک شور شرابا کرتے ہیں، جس سے بچوں اور خواتین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عدالت میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جبکہ سیشن کورٹ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) کو خط بھی جاری کیا گیا ہے۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اے سی کے پاس گئے تھے، جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ تپیدار کو بھیجا جائے گا، تاہم تاحال نہ تپیدار پہنچا ہے اور نہ ہی اے سی کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیا گیا ہے۔

متاثرہ رہائشیوں نے الزام عائد کیا کہ 14 تاریخ کو پرتاب ٹھکر 11 مسلح افراد کے ہمراہ ان کے گھروں پر آیا، اس وقت وہ مزدوری کے لیے گئے ہوئے تھے۔ مبینہ طور پر گھروں پر پہنچ کر انہیں علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ اگر وہ نقل مکانی نہیں کریں گے تو ان کے لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا۔

رہائشیوں کے مطابق پرتاب ٹھکر نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ عدالت، پولیس، ایس پی اور ڈپٹی کمشنر کو نہیں مانتا اور انہیں علاقہ خالی کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تین بھائیوں میں سے ایک ڈاکٹر اور دو استاد ہیں، جو مبینہ طور پر کہتے ہیں کہ وہ ایک سال کی تنخواہ عدالت میں جمع کرا دیں گے۔

گاؤں والوں نے ایس ایچ او ڈیپلو، ایس پی مٹھی، ایس ایس پی تھرپارکر، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لایا جائے، معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button