کسی صورت پولیس گردی قبول نہیں کریں گے،معززین سرکی برادری

ٹھٹھہ( جاويد لطيف ميمڻ\جانوڈاٹ پی کے )ٹھٹھہ اور مکلی کی سرکی برادری کی جانب سے مکلی پولیس کی زیادتیوں اور ان کے چار محنت کش نوجوانوں کو مکلی پولیس کو مفت میں کھانا نہ کھلانے پر گرفتار کرکے ان پر کیے گئے سخت تشدد اور ان کے خلاف درج کیے گئے جھوٹے مقدمات کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔

اس سلسلے میں ٹھٹھہ شہر کے سرکی چوک پر سرکی ہاؤس میں برادری کا ایک بڑا اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی صدارت وڈیرو حمیر خان سرکی نے کی۔ اجلاس کے بعد مکلی پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کی قیادت وڈیرو حمیر خان سرکی، غلام قادر سرکی، بھورو سرکی، کامریڈ نبی بخش سرکی، محمد ایوب سرکی، نور حسن سرکی، شمشاد سرکی، غلام نبی، احسان، رستم سرکی اور دیگر نے کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو راتیں قبل مکلی تھانے کے ایس ایچ او مظہر کنگو، سب انسپکٹر مشتاق پنہور، پولیس اہلکار انور انڑ اور دیگر اہلکاروں نے مکلی میں جھوپڑا ہوٹل چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے ان کی برادری کے چار نوجوان عبدالجبار، عبدالغفار، عبدالمالک اور عنایت علی سرکی کو مفت میں کھانا نہ کھلانے پر زبردستی گرفتار کرکے تھانے لے جاکر ان پر بدترین تشدد کیا اور ان کے خلاف تین جھوٹے مقدمات درج کر دیے۔

وڈیرو حمیر خان سرکی اور دیگر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی ہے، مگر ایسا ظلم ان کے ساتھ پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں ہوا جو اس حکومت میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی اتنی زیادتیوں کے باوجود پارٹی کے کسی رہنما نے ان کی خبر تک نہیں لی، جس پر وہ شدید مایوس ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی صورت پولیس گردی قبول نہیں کریں گے اور ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی راستہ اختیار کر چکے ہیں اور انہیں عدالت سے انصاف کی امید ہے۔

مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لیا جائے، متاثرہ نوجوانوں کو انصاف فراہم کیا جائے، اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں ضلع بدر کیا جائے اور مقدمات درج کیے جائیں۔ بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button