پوپ لیو کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تشدد روکنے کا مطالبہ، دو ریاستی حل پر زور

میلان (ویب ڈیسک) پوپ لیو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے دو ریاستی حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پوپ لیو کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور فلسطینی گاؤں قصرا میں شہری آبادی کو محاصرے جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کے بعد متعدد فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات فلسطینی اراضی پر قبضے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے مختص علاقوں کا دائرہ مزید محدود ہو رہا ہے۔

روم کے قریب واقع کاسٹل گاندولفو میں دوپہر کی عبادت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری آبادی کے خلاف بار بار ہونے والے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہیں۔

انہوں نے کسی مخصوص واقعے یا فریق کا نام لیے بغیر عالمی برادری پر زور دیا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کی خاطر فوری اقدامات کیے جائیں۔

ویٹی کن طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 150 سے زائد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، جس میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹریچ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس پالیسی کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button