غریب خاتون سبحانہ نوحانی نےماتلی پولیس پر ہراسانی کاالزام عائدکردیا

ماتلی (رپورٹ ایم آر گدی /جانو ڈاٹ پی کے)ماتلی کی رہائشی غریب خاتون سبحانہ نوحانی اپنی کمسن بیٹی انیلا نوحانی کے ہمراہ ماتلی پریس کلب پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے ماتلی پولیس کے مبینہ رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو کئی کئی گھنٹے پولیس اسٹیشن میں بٹھایا جاتا رہا،جس کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت،خوف اور پریشانی کا شکار ہے۔
پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سبحانہ نوحانی نے دعویٰ کیا کہ ماتلی پولیس انہیں روزانہ کی بنیاد پر مبینہ طور پر ہراساں کرتی ہے جبکہ متعدد بار ان کے شوہر رجب علی کو مختلف بہانوں سے گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا جا چکا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اسٹیشن جانے پران سے رقم کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر ان کی کمسن بیٹی انیلا نوحانی نے بھی میڈیا کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پہلے ان کی والدہ پولیس اسٹیشن گئی تھیں،بعد ازاں جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ وہاں پہنچی تو انہیں بھی مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن میں روک لیا گیا اور شام دیرتک وہاں بٹھائے رکھا گیا۔سبحانہ نوحانی کا کہنا تھا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور بار بار رقم دینے کی استطاعت نہیں رکھتے جبکہ مسلسل مبینہ ہراسانی، تھانے کے چکروں اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کا خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ متاثرہ خاتون نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی بدین اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ ہراسانی کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔



