پاکستان کے ہاتھ بڑی سفارتی ذمہ داری، شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے کی تیاریاں

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان کے لیے علاقائی سفارت کاری کے میدان میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچیں گے، جہاں اجلاس کے اختتام پر پاکستان تنظیم کی آئندہ ایک سال کے لیے گردشی صدارت سنبھالے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست کو بشکیک پہنچیں گے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ سربراہی اجلاس 31 اگست اور یکم ستمبر کو ہوگا، جس میں رکن ممالک کے اہم رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے تنظیم کی صدارت سنبھالنا ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی صدارت کے دوران 2027 میں اسلام آباد میں SCO سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان کی ذمہ داری ہوگی۔

بشکیک میں اہم عالمی رہنماؤں کا اجتماع

SCO سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ سمیت متعدد اہم رہنما شریک ہوں گے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت بھی متوقع ہے، جس کے باعث بشکیک میں ہونے والا اجلاس علاقائی اور عالمی سیاست کے حوالے سے خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارت، رابطہ کاری اور باہمی تعاون سمیت متعدد اہم امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کو پاکستان کا مؤقف عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے سامنے رکھنے کا اہم موقع ملے گا۔

پاکستان کے لیے بڑا سفارتی موقع

پاکستان کی ایک سالہ صدارت کے دوران SCO کے پلیٹ فارم کو اقتصادی روابط، علاقائی امن، سکیورٹی اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

بشکیک اجلاس کے بعد پاکستان کی صدارت شروع ہونے کے ساتھ ہی نظریں 2027 کے اسلام آباد SCO سربراہی اجلاس پر بھی مرکوز ہوگئی ہیں، جو پاکستان کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط کو مزید آگے بڑھانے کا بڑا موقع ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب وسطی ایشیا اور SCO کے دائرے میں علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور سلامتی کے معاملات کو خاص اہمیت حاصل ہے، اس لیے بشکیک اجلاس میں پاکستان کی موجودگی اور آئندہ ایک سال کی صدارت کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button