پمز ہسپتال کی فائر سیفٹی سمیت نظام میں 3 ماہ میں بہتری لانے کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کے نظام میں بہتری اور فائر سیفٹی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے قلیل مدتی اصلاحات پر آئندہ 3 ماہ میں عملدرآمد کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پمز ہسپتال کی بہتری کے لائحہ عمل سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں ہسپتال کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کی جانب سے کیے گئے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر مقررہ 3 ماہ کے اندر عملدرآمد مکمل کیا جائے، جبکہ پمز کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اصلاحات کی جائیں۔
شہباز شریف نے پمز کے فائر سیفٹی نظام کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) سے معاونت اور تجاویز لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات کا بھی جائزہ لے کر ان پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پمز میں ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات مفت فراہم کرنے سے متعلق اقدامات بھی بہتری کے منصوبے کا حصہ بنائے جائیں۔ ہسپتال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی افرادی قوت کی تعیناتی اور طویل مدتی اصلاحات پر مشتمل جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں پولی کلینک ہسپتال کا پرفارمنس آڈٹ کرانے، سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کو دور کرنے اور ادارے کی تنظیم نو کے لیے بھی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعظم نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔ سی ڈی اے اور متعلقہ اداروں کو سرکاری و نجی دفاتر اور عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ اور ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کو وزارت قومی صحت کی جانب سے پمز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پرفارمنس آڈٹ میں جانچے گئے انڈیکیٹرز میں 90 فیصد کے قابل قبول ہدف کے مقابلے میں پمز کی کمپلائنس صرف 39.7 فیصد رہی۔
حکام کے مطابق پمز کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ قلیل، وسط اور طویل مدتی اصلاحات کے حوالے سے بھی اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، معاون خصوصی مختار احمد بھرتھ سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



